شب ہجراں
قسم کلام: اسم ظرف زمان
معنی
١ - جدائی کی رات، فراق کی رات۔ "کچھ ثانیوں کے لیے، جو مجھے شب ہجر کی طرح بہت طویل لگے۔" ( ١٩٨٥ء، آتش چنار (پیش لفظ، ح) )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'شب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'ہجراں' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٧٩ء "دیوان زادہ حاتم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جدائی کی رات، فراق کی رات۔ "کچھ ثانیوں کے لیے، جو مجھے شب ہجر کی طرح بہت طویل لگے۔" ( ١٩٨٥ء، آتش چنار (پیش لفظ، ح) )
جنس: مؤنث